سنن نسائی حدیث ۳۳۶ - کتے کے جھوٹے برتن کا حکم
کتا برتن میں منہ ڈال دے تو کیا کریں؟
سنن نسائی : ۳۳۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۶
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو (جو اس میں ہے) اسے بہا دے، پھر اسے سات مرتبہ دھو ڈالے“۔
سنن نسائی حدیث ۳۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کا حکم بیان فرمایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو جو کچھ اس میں ہے اسے بہا دے، پھر برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ حدیث کا اصل موضوع کتے کا جھوٹا برتن اور اس کی صفائی ہے۔ اس میں واضح طور پر دو باتیں آئی ہیں: پہلے برتن کی چیز بہا دی جائے، پھر اسے سات بار دھویا جائے۔ یہ حدیث طہارت، برتن کی صفائی اور نجاست کے معاملے میں احتیاط سکھاتی ہے۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کا صاف حکم ہے جس پر عمل کرنا مطلوب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کتے کے منہ لگے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا۔
- برتن میں موجود چیز کو پہلے بہا دینے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- طہارت کے معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت واضح ہے۔
- روزمرہ صفائی میں شرعی حکم کا خیال رکھا جائے۔
