سنن نسائی حدیث ۳۳۹ - پہلی بار مٹی سے دھونا
کتے کے برتن کو پہلی بار مٹی سے دھونا
سنن نسائی : ۳۳۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۹
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے)“۔
سنن نسائی حدیث ۳۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع کتے کے جھوٹے برتن کا حکم ہے۔ یہاں سات بار دھونے کے ساتھ پہلی بار مٹی استعمال کرنے کی بات آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برتن کی صفائی میں صرف پانی نہیں بلکہ مٹی کا استعمال بھی حدیث میں بیان ہوا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اگر ایسا معاملہ پیش آئے تو اس نبوی ہدایت کو سامنے رکھنا چاہیے۔ یہ روایت طہارت، نجاست اور برتن کی شرعی صفائی سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کتے کے منہ لگے برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہیے۔
- اس روایت میں پہلی بار مٹی سے مانجھنے کا ذکر ہے۔
- برتن کی طہارت میں حدیث کے الفاظ کا خیال رکھا جائے۔
- نجاست کے مسئلے میں احتیاط اور صفائی دونوں ضروری ہیں۔
