سنن نسائی حدیث ۳۳۷ - کتے کے برتن کو مٹی سے دھونا

کتے کے جھوٹے برتن کو مٹی سے دھونا

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۳۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قال : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ " . وَقَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ " .

عبداللہ بن مغفل روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اور شکاری کتوں کی نیز بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: ”جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھو لو، اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو“۔

سنن نسائی حدیث ۳۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کتوں کے بارے میں حکم دیا، اور شکاری کتے اور بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ، اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو۔ اس حدیث کا اصل موضوع کتے کے جھوٹے برتن کی صفائی ہے۔ اس میں اجازت والے کتوں کا ذکر بھی آیا ہے، مگر برتن کی صفائی کا حکم الگ اور واضح ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کتے کے منہ لگے برتن کو عام دھونے پر نہ چھوڑا جائے، بلکہ سات بار دھونے اور مٹی سے مانجھنے کا اہتمام کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کتے کے منہ لگے برتن کو سات بار دھونے کا حکم ہے۔
  • حدیث میں مٹی سے مانجھنے کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔
  • شکاری اور بکریوں کی رکھوالی والے کتوں کی اجازت بیان ہوئی۔
  • صفائی کے شرعی طریقے کو عام اندازے پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں