سنن نسائی حدیث ۳۴۰ - کتے کے برتن کی پاکی
کتے کے جھوٹے برتن کی پاکی کا طریقہ
سنن نسائی : ۳۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۴۰
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے)“۔
سنن نسائی حدیث ۳۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا حکم بیان ہوا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے، اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھے۔ یہ روایت بھی کتے کے جھوٹے برتن کی پاکی کے بارے میں ہے۔ حدیث میں تعداد بھی مقرر ہے اور مٹی کے استعمال کی جگہ بھی بیان ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صفائی عام دھلائی جیسی نہیں بلکہ خاص طریقے کے ساتھ ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی یہ ہدایت گھر، برتن اور کھانے پینے کی چیزوں کی طہارت سے جڑی ہوئی ہے۔ اس حدیث کا پیغام صاف ہے کہ کتے کے منہ لگے برتن کو مقررہ طریقے سے پاک کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کتے کے منہ لگے برتن کو سات بار دھونا حدیث میں آیا ہے۔
- پہلی بار مٹی سے مانجھنے کا حکم اس روایت میں واضح ہے۔
- برتن کی صفائی میں شرعی طریقہ اہم ہے۔
- طہارت کے معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی تعداد کا خیال رکھا جائے۔
