سنن نسائی حدیث ۴۰۰۹ - قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۴۰۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۰۰۹
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ أَتَوْا مُحَمَّدًا ، فَقَالُوا : إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ , لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً ، فَنَزَلَتْ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 وَنَزَلَتْ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ سورة الزمر آية 53 " .
عبداللہ بن عباس روایت:
مشرکین میں سے کے کچھ لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ جو کہتے اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بہتر چیز ہے لیکن یہ بتائیے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے کیا اس کا بھی کفارہ ہے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» ”جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے“ اور یہ نازل ہوئی «قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم» ”اے میرے بندو جن ہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے“ (الزمر: ۵۳)۔
