سنن نسائی حدیث ۴۶۸ - نفل سے فرض نماز کی کمی پوری

نفل نماز فرض کی کمی پوری کرنے کا سبب

سنن نسائیحدیث نمبر ۴۶۸

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قال : أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا ، وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : انْظُرُوا لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ ، فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ ، قَالَ : أَكْمِلُوا بِهِ الْفَرِيضَةَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلے بندہ سے نماز کی بازپرس ہو گی، اگر اس نے اسے پورا کیا ہے (تو ٹھیک ہے) ورنہ اللہ عزوجل فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ اگر اس کے پاس کوئی نفل ملا تو فرمائے گا: اس کے ذریعہ فرض پورا کر دو“۔

سنن نسائی حدیث ۴۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ بندے سے سب سے پہلے نماز کی بازپرس ہوگی۔ اگر اس نے نماز پوری کی ہوگی تو معاملہ واضح ہے، اور اگر کمی ہوگی تو اللہ عزوجل فرمائے گا کہ میرے بندے کے نفل دیکھو۔ اگر نفل ملیں گے تو فرمایا جائے گا کہ فرض کو ان کے ذریعے پورا کر دو۔ یہ روایت بہت مختصر ہے مگر نماز کے بارے میں بڑی سنجیدہ سوچ دیتی ہے۔ فرض نماز اصل ذمہ داری ہے، مگر نفل نماز بھی بے فائدہ نہیں۔ نماز کا حساب، نفل نماز کی فضیلت اور فرض نماز کی کمی جیسے الفاظ اسی حدیث کے اصل مضمون کو بیان کرتے ہیں۔ بندے کو چاہیے کہ فرض کو مضبوط رکھے اور نفل کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فرض نماز بندے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
  • نفل نماز فرض کی کمی پوری کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
  • قیامت کے حساب میں نماز کو سب سے پہلے دیکھا جائے گا۔
  • نماز میں کمی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں