سنن نسائی حدیث ۴۶۹ - جنت میں لے جانے والے اعمال
جنت میں داخل کرنے والے اعمال کون سے ہیں؟
سنن نسائی : ۴۶۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۶۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّ رَجُلًا ، قال : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ ، ذَرْهَا كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ " .
ابوایوب روایت:
ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو“ گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔
سنن نسائی حدیث ۴۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ آپ نے جواب میں چند صاف اعمال بتائے: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔ حدیث میں دین کی بنیادی باتیں بہت سادہ انداز میں جمع ہو گئی ہیں۔ توحید، نماز، زکاۃ اور رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا، یہ سب بندے کی عملی زندگی سے جڑے ہوئے کام ہیں۔ جنت میں لے جانے والے اعمال، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا اور صلہ رحمی جیسے سرچ الفاظ اسی روایت کے اصل پیغام سے نکلتے ہیں۔ اس حدیث میں لمبی تفصیل نہیں بلکہ مختصر اور عملی نصیحت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی عبادت اور شرک سے بچنا بنیادی عمل ہے۔
- نماز قائم کرنا جنت کے اعمال میں ذکر ہوا ہے۔
- زکاۃ ادا کرنا اہم دینی ذمہ داری ہے۔
- صلہ رحمی بھی نیکی کے راستے میں شامل ہے۔
