سنن نسائی حدیث ۵۳۹۸ - قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
سنن نسائی : ۵۳۹۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۳۹۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ , أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ ؟ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرے والد کافی بوڑھے ہیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کافی ہوتا یا نہیں؟“۔
