سنن نسائی حدیث ۵۴۵۷ - استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
سنن نسائی : ۵۴۵۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۴۵۷
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بلَالُ بْنُ يَحْيَى ، أَنَّ شُتَيْرَ بْنَ شَكَلٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ , فَأَخَذَ بِيَدِي ، ثُمَّ قَالَ : " قُلْ : أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي ، وَشَرِّ بَصَرِي ، وَشَرِّ لِسَانِي ، وَشَرِّ قَلْبِي ، وَشَرِّ مَنِيِّي " ، قَالَ : حَتَّى حَفِظْتُهَا . قَالَ سَعْدٌ : وَالْمَنِيُّ مَاؤُهُ ، خَالَفَهُ وَكِيعٌ فِي لَفْظِهِ .
شکل بن حمید روایت:
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے تعوذ سکھائیے جس کے ذریعے میں اللہ کی پناہ مانگوں، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا: ”کہو، «أعوذ بك من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي» میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کان کی برائی سے، آنکھ کے کی برائی سے، زبان کی برائی سے، دل کی برائی سے، منی کی برائی سے، یہاں تک کہ یہ چیز مجھے یاد ہو گئی، سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: منی سے مراد نطفہ (پانی) ہے۔ وکیع نے الفاظ حدیث میں ابونعیم کی مخالفت کی ہے۔
