سنن نسائی حدیث ۵۶۲ - فجر و عصر کے بعد نماز کا حکم
فجر اور عصر کے بعد نماز کے ممنوع اوقات
سنن نسائی : ۵۶۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۶۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد (بھی) یہاں تک کہ سورج نکل آئے۔
سنن نسائی حدیث ۵۶۲ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز کے ممنوع اوقات کو بہت صاف انداز میں بتاتی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے۔ اسی طرح فجر کے بعد بھی نماز سے منع فرمایا، یہاں تک کہ سورج نکل آئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت میں وقت کی پابندی بہت اہم ہے۔ نماز اپنی جگہ بہت بڑی نیکی ہے، مگر ہر نماز کا ایک مناسب وقت ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ آدمی نفل نماز پڑھنے کا ارادہ ان اوقات میں نہ کرے جن سے منع کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں فجر کے بعد نماز، عصر کے بعد نماز، سورج نکلنے کا وقت اور غروب آفتاب جیسے اہم الفاظ آتے ہیں، اس لیے نمازی کو اپنے روزانہ معمول میں ان اوقات کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کے بعد سورج نکلنے تک نفل نماز سے رکنا چاہیے۔
- عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز کا قصد نہیں کرنا چاہیے۔
- نماز میں صرف شوق کافی نہیں، وقت کی پابندی بھی ضروری ہے۔
- ممنوع اوقات جاننا روزانہ نماز پڑھنے والوں کے لیے مفید ہے۔
