سنن نسائی حدیث ۵۶۸ - فجر کے بعد اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں
فجر اور عصر کے بعد نماز کب تک منع ہے؟
سنن نسائی : ۵۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۶۸
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال : حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَبْزُغَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .
ابو سعید خدری روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے“۔
سنن نسائی حدیث ۵۶۸ کا خلاصہ
یہ حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہے، اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ بہت واضح ہیں: فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے۔ اس روایت میں ممنوع اوقات نماز کی حد بھی بتا دی گئی ہے، یعنی ممانعت ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص وقت تک ہے۔ فجر کے بعد حد سورج کا نکل آنا ہے، اور عصر کے بعد حد سورج کا ڈوب جانا ہے۔ اس لیے نماز کے وقت کے بارے میں سوال ہو تو اس حدیث سے آسان جواب ملتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ نفل نماز کے لیے ایسا وقت اختیار کرے جو حدیث میں منع کیے گئے وقت سے باہر ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کے بعد ممانعت سورج نکلنے تک ہے۔
- عصر کے بعد ممانعت سورج ڈوبنے تک ہے۔
- حدیث میں ممنوع وقت کی آخری حد بھی بیان ہوئی ہے۔
- نماز پڑھنے سے پہلے وقت کا خیال کرنا چاہیے۔
