سنن نسائی حدیث ۵۷۳ - رات کے آخری حصے کا ذکر اور ممنوع اوقات
رات کا آخری حصہ، ذکر اور نماز کے ممنوع اوقات
سنن نسائی : ۵۷۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۷۳
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : أَنْبَأَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالُوا : سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ، يقول : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ مِنَ الْأُخْرَى أَوْ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ يُبْتَغَى ذِكْرُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَكُونُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعَبْدِ جَوْفَ اللَّيْلِ الْآخِرَ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، وَهِيَ سَاعَةُ صَلَاةِ الْكُفَّارِ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ قِيدَ رُمْحٍ وَيَذْهَبَ شُعَاعُهَا ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ الشَّمْسُ اعْتِدَالَ الرُّمْحِ بِنِصْفِ النَّهَارِ ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَتُسْجَرُ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى يَفِيءَ الْفَيْءُ ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَهِيَ صَلَاةُ الْكُفَّارِ " .
ابوامامہ باہلی روایت:
میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ ہوتا ہو، یا کوئی ایسا وقت ہے جس میں اللہ کا ذکر مطلوب ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ عزوجل بندوں کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے، اگر تم اس وقت اللہ عزوجل کو یاد کرنے والوں میں ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ، کیونکہ فجر میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور سورج نکلنے تک رہتے ہیں، (پھر چلے جاتے ہیں) کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، اور یہ کافروں کی نماز کا وقت ہے، لہٰذا (اس وقت) تم نماز نہ پڑھو، یہاں تک کہ سورج نیزہ کے برابر بلند ہو جائے، اور اس کی شعاع جاتی رہے پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر میں سورج نیزہ کی طرح سیدھا ہو جائے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو، یہ ایسا وقت ہے جس میں جہنم کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور وہ بھڑکائی جاتی ہے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ سایہ لوٹنے لگ جائے، پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، کیونکہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور وہ کافروں کی نماز کا وقت ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۵۷۳ کا خلاصہ
یہ حدیث عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے سوال سے شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کوئی گھڑی ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا قرب دوسری گھڑیوں سے زیادہ ہو، یا کوئی وقت ایسا ہے جس میں اللہ کا ذکر مطلوب ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے آخری حصے کا ذکر فرمایا اور کہا کہ اگر تم اس وقت اللہ کو یاد کرنے والوں میں ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ۔ پھر حدیث میں نماز کے اوقات کا ذکر آیا: فجر کے بعد سورج نکلنے تک، سورج بلند ہونے کے بعد نماز کا وقت، پھر دوپہر کے عین وقت نماز سے رکنا، پھر سایہ لوٹنے کے بعد نماز، اور غروب تک کا وقت۔ آخر میں غروب کے وقت نماز سے رکنے کا ذکر ہے۔ یہ روایت ممنوع اوقات نماز، رات کے آخری حصے کا ذکر، فرشتوں کی حاضری اور سورج کے طلوع و غروب کی احتیاط کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے، مگر ہر بات کو اسی متن کی حد میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کے آخری حصے میں اللہ کا ذکر پسندیدہ وقت کے طور پر بیان ہوا۔
- طلوع آفتاب کے وقت نماز سے رکنے کا حکم آیا ہے۔
- ٹھیک دوپہر کے وقت بھی نماز سے رکنے کی ہدایت ہے۔
- غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھنے کی بات بیان ہوئی ہے۔
