سنن نسائی حدیث ۵۷۲ - سورج کا کنارہ نکلے تو نماز مؤخر کرو
سورج کے کنارے کے وقت نماز مؤخر کرنے کا حکم
سنن نسائی : ۵۷۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۷۲
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قال : أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تُشْرِقَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغْرُبَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز کو مؤخر کرو، یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے“۔
سنن نسائی حدیث ۵۷۲ کا خلاصہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز کو مؤخر کرو، یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تو نماز کو مؤخر کرو، یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔ یہ حدیث طلوع اور غروب کے وقت کی عملی احتیاط بتاتی ہے۔ کبھی آدمی سمجھتا ہے کہ سورج نکلنے ہی والا ہے یا ڈوبنے ہی والا ہے، تو اس وقت نماز شروع کر دینا مناسب نہیں۔ حدیث کہتی ہے کہ انتظار کرو، پھر نماز پڑھو۔ ممنوع اوقات نماز کے بارے میں یہ روایت عام آدمی کے لیے بہت آسان اصول دیتی ہے: جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو یا غائب ہونے لگے تو نماز کو کچھ دیر کے لیے مؤخر کر دو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج کا کنارہ نکلے تو نماز مؤخر کرنی چاہیے۔
- سورج کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز روک دینی چاہیے۔
- طلوع اور غروب کے وقت جلدی نہیں کرنی چاہیے۔
- نماز کے وقت میں تھوڑا انتظار سنت کے مطابق احتیاط ہے۔
