سنن نسائی حدیث ۶۰ - نماز کی دعائے استفتاح

نماز شروع کرتے وقت دعائے استفتاح

سنن نسائیحدیث نمبر ۶۰

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : أَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنے خاموش رہنے کے دوران کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہتا ہوں «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد» ”اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری پیدا کر دے جیسے کہ تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری رکھی ہے، اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولے کے ذریعہ دھو ڈال۔

سنن نسائی حدیث ۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان تھوڑی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ آپ یہ دعا پڑھتے ہیں: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف، پانی اور اولے سے دھو دے۔ اس حدیث کا موضوع نماز کی دعائے استفتاح اور گناہوں سے پاکی کی دعا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے شروع میں بندہ اللہ سے اندرونی پاکیزگی بھی مانگتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم تکبیر اور قرأت کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے۔
  • دعا میں گناہوں سے دوری اور پاکی کی درخواست ہے۔
  • نماز کے آغاز میں اللہ سے معافی اور صفائی مانگنا اچھا عمل ہے۔
  • دعا کے الفاظ میں عاجزی اور اپنے گناہوں کا احساس موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں