صحیح مسلم حدیث ۵۹۸ - فطرت اور جسمانی پاکیزگی
فطرت کے اعمال: پاکیزہ زندگی کی سادہ تعلیم
صحیح مسلم : ۵۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۸
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ ، الِاخْتِتَانُ ، وَالِاسْتِحْدَادُ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ ، وَنَتْفُ الإِبِطِ " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فطرت پانچ چیزیں ہیں، ختنہ کرنا، زیرناف بال مونڈنا، مونچھیں کترانا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۹۸ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی فطرت کی پانچ چیزوں کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ختنہ، زیرناف بال صاف کرنا، مونچھیں کترانا، ناخن کاٹنا اور بغل کے بال اکھیڑنا فطرت میں شمار فرمایا۔ اس روایت میں ترتیب کچھ بدل کر آئی ہے، مگر مضمون وہی ہے کہ مسلمان اپنی جسمانی صفائی کا خیال رکھے۔ فطرت کی یہ چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان میں کوئی پیچیدہ بات نہیں، بلکہ صاف، آسان اور عملی ہدایت ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ پاکیزگی صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں، بلکہ بدن کی صفائی بھی دینی زندگی کا حصہ ہے۔ اس لیے ناخن، مونچھ، بغل اور زیرناف صفائی میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فطرت کے اعمال جسمانی پاکیزگی سے تعلق رکھتے ہیں۔
- ناخن کاٹنا اور مونچھ کترانا حدیث میں ذکر شدہ اعمال ہیں۔
- زیرناف اور بغل کے بالوں کی صفائی کا اہتمام ہونا چاہیے۔
- اسلامی تعلیمات میں ذاتی صفائی کو اہم جگہ حاصل ہے۔
