صحیح مسلم حدیث ۵۹۹ - چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑنا

ناخن، مونچھ اور بالوں کی صفائی: چالیس دن کی حد

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ جَعْفَرٍ ، قَالَ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ " وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ ، وَنَتْفِ الإِبِطِ ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " .

انس بن مالک روایت:

ہمارے لیے میعاد مقرر ہوئی مونچھ کترنے کی اور ناخن کاٹنے کی اور بغل کے بال نوچنے کی اور زیرِناف کے بال مونڈنے کی کہ نہ چھوڑیں ہم ان کو چالیس دن سے زیادہ۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے لیے مونچھ کترنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال نوچنے اور زیرناف بال مونڈنے کی میعاد مقرر ہوئی کہ ہم انہیں چالیس راتوں سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ یہ حدیث ذاتی صفائی کے بارے میں بہت عملی رہنمائی دیتی ہے۔ اس میں چار کام واضح طور پر آئے ہیں: مونچھ کترنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال صاف کرنا اور زیرناف کے بال مونڈنا۔ یہاں اصل بات وقت کی حد ہے کہ ان چیزوں کو اتنا نہ بڑھنے دیا جائے کہ چالیس راتوں سے زیادہ گزر جائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جسمانی صفائی کو باقاعدہ معمول بنانے کی تعلیم ہے، نہ کہ کبھی کبھار کا کام سمجھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مونچھ، ناخن، بغل اور زیرناف کی صفائی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
  • حدیث میں چالیس راتوں سے زیادہ نہ چھوڑنے کی میعاد آئی ہے۔
  • ذاتی صفائی کو باقاعدہ معمول بنانا چاہیے۔
  • جسمانی صفائی دین کی عملی تعلیمات میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں