سنن نسائی حدیث ۶۰۲ - جمع بین الصلاتین کی رخصت

جمع بین الصلاتین: ظہر و عصر، مغرب و عشاء ایک ساتھ

سنن نسائیحدیث نمبر ۶۰۲

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھی۔

سنن نسائی حدیث ۶۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی پیغام جمع بین الصلاتین سے متعلق ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کو اکٹھا پڑھا، اور مغرب و عشاء کو بھی اکٹھا پڑھا، حالانکہ خوف یا سفر کی حالت نہ تھی۔ اس روایت میں اصل بات یہ سامنے آتی ہے کہ نماز کے اوقات کا معاملہ بہت اہم ہے، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں امت کے لیے آسانی کا پہلو بھی ملتا ہے۔ یہاں نہ خوف کا ذکر ہے، نہ سفر کا؛ اس لیے حدیث کا دھیان اسی واقعے پر رہتا ہے کہ دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی گئیں۔ عام قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ دینی عمل میں نص کو سمجھتے وقت الفاظ کو غور سے پڑھنا چاہیے، اور جمع نماز کے مسئلے میں حدیث کے اصل متن کو سامنے رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اس حدیث میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع پڑھنے کا ذکر ہے۔
  • روایت میں خوف اور سفر دونوں کی نفی کی گئی ہے۔
  • نماز کے مسائل میں حدیث کے الفاظ کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔
  • دینی بات بیان کرتے وقت اصل روایت سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں