سنن نسائی حدیث ۶۰۴ - آٹھ اور سات رکعتیں ایک ساتھ
آٹھ اور سات رکعتیں: جمع نماز کا بیان
سنن نسائی : ۶۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۶۰۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (ظہر و عصر کی) آٹھ رکعتیں، اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں ملا کر پڑھیں۔
سنن نسائی حدیث ۶۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آٹھ رکعتیں ایک ساتھ اور سات رکعتیں ایک ساتھ پڑھیں۔ آٹھ رکعتوں سے ظہر و عصر کی مجموعی رکعتیں مراد ہیں، اور سات رکعتوں سے مغرب و عشاء کی مجموعی رکعتیں سمجھ میں آتی ہیں، جیسا کہ ترجمے میں واضح کیا گیا ہے۔ اس روایت کا زور عدد اور عمل دونوں پر ہے: نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ادا کی گئیں اور وہ اکٹھی تھیں۔ جمع بین الصلاتین کے بارے میں یہ روایت قاری کو اصل واقعہ سادہ انداز میں بتاتی ہے۔ یہاں کسی اضافی وجہ یا لمبی بحث کا ذکر نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جمع نماز کی روایت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز کا عمل بیان کیا۔
- آٹھ رکعتوں میں ظہر و عصر کی مجموعی رکعتیں آتی ہیں۔
- سات رکعتوں میں مغرب و عشاء کی مجموعی رکعتیں آتی ہیں۔
- روایت مختصر ہے، اس لیے اس پر غیر ضروری اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
