سنن نسائی حدیث ۶۱۲ - نماز کو وقت پر قائم کرنا
وقت پر نماز: اللہ کو محبوب عمل
سنن نسائی : ۶۱۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۶۱۲
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قال : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " إِقَامُ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا“۔
سنن نسائی حدیث ۶۱۲ کا خلاصہ
یہ روایت بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سوال سے متعلق ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ عزوجل کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے۔ اس روایت کے متن میں خاص طور پر نماز کو اس کے وقت پر قائم کرنے کا ذکر نمایاں ہے۔ اس سے وقت پر نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ نماز صرف ادا کر دینا نہیں، بلکہ اسے اس کے مقرر وقت کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا بھی ضروری ہے۔ عام زندگی میں مصروفیات، کام، سفر یا غفلت کی وجہ سے نماز میں دیر ہو سکتی ہے، مگر یہ حدیث یاد دلاتی ہے کہ وقت پر نماز اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے۔ یہاں ہمیں زیادہ تفصیل نہیں بنانی، کیونکہ روایت کا اصل زور “اقام الصلاۃ لوقتها” پر ہے۔ یہی اس حدیث کا مرکزی سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا بہت اہم عمل ہے۔
- صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب عمل کے بارے میں سوال کیا۔
- حدیث میں نماز کے وقت کی پابندی کو صاف الفاظ میں بیان کیا گیا۔
- روزمرہ مصروفیات کے باوجود نماز کا وقت یاد رکھنا چاہیے۔
