سنن نسائی حدیث ۶۱۱ - وقت پر نماز، والدین اور جہاد
اللہ کو محبوب عمل: وقت پر نماز اور والدین سے حسن سلوک
سنن نسائی : ۶۱۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۶۱۱
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا صَاحِبُ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ، هَذِهِ الدَّارِ قال : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا ، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“ ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۶۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے۔ جواب میں تین اعمال آئے: وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس روایت کا پہلا اور نمایاں سبق نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔ پھر والدین کے ساتھ اچھا معاملہ ذکر ہوا، جو روزمرہ زندگی کا بہت عملی عمل ہے۔ اس کے بعد جہاد فی سبیل اللہ کا ذکر ہے۔ محبوب اعمال کی حدیث پڑھتے ہوئے ترتیب کو بھی نوٹ کرنا چاہیے، مگر اپنی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے جو متن میں نہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کی زندگی میں نماز، والدین کے حقوق اور اللہ کی راہ میں قربانی جیسے کام بہت اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وقت پر نماز پڑھنا اللہ تعالیٰ کو محبوب اعمال میں سے ہے۔
- والدین کے ساتھ حسن سلوک کو بھی نمایاں عمل بتایا گیا۔
- اللہ کی راہ میں جہاد کا ذکر اسی ترتیب میں آیا ہے۔
- اچھے عمل پوچھنے کا جذبہ صحابہ کرام کی دینی فکر دکھاتا ہے۔
