سنن نسائی حدیث ۶۱۹ - نماز یاد آئے تو پڑھ لو

بھولی ہوئی نماز اور آیت: اقم الصلاة لذكري

سنن نسائیحدیث نمبر ۶۱۹

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَسِيتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ إِذَا ذَكَرْتَ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 " . قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا بِهِ يَعْلَى مُخْتَصَرًا .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «أقم الصلاة لذكري» ”نماز قائم کرو جب میری یاد آئے“۔ عبدالاعلی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم سے یعلیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے۔

سنن نسائی حدیث ۶۱۹ کا خلاصہ

یہ حدیث بھولی ہوئی نماز کے حکم کو قرآن کی آیت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے۔ اس روایت میں حدیث اور آیت دونوں کا ربط ہے۔ بھولی ہوئی نماز کے بارے میں اصل ہدایت یہ ہے کہ یاد آتے ہی نماز ادا کی جائے۔ “اقم الصلاۃ لذکری” کا ذکر قاری کو یہ سمجھاتا ہے کہ نماز اللہ کی یاد سے جڑی ہوئی عبادت ہے۔ اگر بھول ہو جائے تو یاد آنے کے بعد سستی نہ کی جائے۔ اس حدیث میں قصداً چھوڑنے کی تفصیل نہیں، اس لیے وضاحت کو بھول جانے کی صورت تک محدود رکھنا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بھولی ہوئی نماز یاد آتے ہی ادا کی جائے۔
  • حدیث میں قرآن کی آیت سے رہنمائی بیان ہوئی ہے۔
  • نماز اللہ کی یاد کے ساتھ جڑی عبادت ہے۔
  • روایت بھول جانے کی صورت بیان کرتی ہے، قصداً چھوڑنے کی بحث نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں