سنن نسائی حدیث ۶۲۰ - بھولی ہوئی نماز کی ادائیگی
نماز بھول جائے تو یاد آتے ہی ادا کریں
سنن نسائی : ۶۲۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۶۲۰
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال : أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ، قَالَ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے“۔
سنن نسائی حدیث ۶۲۰ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی صاف حکم نقل ہوا ہے کہ جو شخص نماز بھول جائے، جب اسے یاد آئے تو پڑھ لے۔ پھر قرآن کی آیت کا ذکر ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے۔ اس حدیث کا انداز بہت عملی ہے۔ انسان سے بھول ہو سکتی ہے، مگر یاد آنے کے بعد اصل جواب عمل ہے، یعنی نماز ادا کرنا۔ بھولی ہوئی نماز کی حدیث میں یہ بات بار بار آتی ہے کہ یاد آنے کا لمحہ اہم ہے۔ اسے معمولی سمجھ کر مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ قاری کے لیے یہ روایت آسان زبان میں ایک مضبوط یاد دہانی ہے کہ نماز کا تعلق اللہ کی یاد سے ہے، اور بھول کے بعد واپس نماز کی طرف آنا بندے کے لیے درست راستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھول جانے کی صورت میں نماز یاد آنے پر پڑھنی ہے۔
- حدیث نے قرآن کی آیت کے ساتھ بات کو بیان کیا۔
- یاد آنے کے بعد مزید تاخیر مناسب نہیں۔
- نماز اللہ کی یاد کا اہم عمل ہے۔
