سنن نسائی حدیث ۷۰۶ - مسجد جانے کے قدموں کا اجر
مسجد جانے کے ہر قدم کا اجر
سنن نسائی : ۷۰۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۰۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حِينَ يَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تُكْتَبُ حَسَنَةً وَرِجْلٌ تَمْحُو سَيِّئَةً " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۷۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی طرف چلنے کا اجر بتایا۔ جب بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے۔ یہ روایت بہت آسان مگر دل کو عمل پر ابھارنے والی ہے۔ مسجد جانا صرف ایک جگہ پہنچنا نہیں، بلکہ راستے کا چلنا بھی ثواب کا سبب بنتا ہے۔ اس میں نماز باجماعت، مسجد کی حاضری اور نیکی کی طرف قدم بڑھانے کی ترغیب ہے۔ حدیث میں اجر کی بات واضح طور پر قدموں کے ساتھ جوڑی گئی ہے، اس لیے مسلمان کو مسجد جانے میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ ہر قدم اللہ کے ہاں لکھا جا رہا ہے، یہ احساس دل میں شوق پیدا کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد کی طرف چلنا اجر کا سبب ہے۔
- ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے پر برائی مٹتی ہے۔
- نماز کے لیے گھر سے نکلنا بھی عبادت کے دائرے میں آتا ہے۔
- مسجد کی حاضری کے لیے محنت معمولی نہیں سمجھی گئی۔
