سنن نسائی حدیث ۷۰۵ - قبروں پر مسجد اور تصاویر کی ممانعت
قبروں پر مسجد اور تصویروں سے بچنے کی حدیث
سنن نسائی : ۷۰۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۰۵
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا ، وَصَوَّرُوا تِيكِ الصُّوَرَ ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
عائشہ روایت:
ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم دونوں نے ایک کنیسہ (گرجا گھر) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے“۔
سنن نسائی حدیث ۷۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ایک کنیسہ کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔ اس گرجا میں تصویریں موجود تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بتایا کہ جب ان لوگوں میں کوئی صالح آدمی فوت ہوتا تو وہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے اور وہاں اس کی تصویریں بنا کر رکھ دیتے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ایسے لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ نیک لوگوں کی محبت میں حد سے آگے بڑھ کر ان کی قبروں کو عبادت کی جگہ بنانا اور تصویریں بنا کر رکھنا بہت خطرناک عمل ہے۔ روایت عبادت کی پاکیزگی، مسجد کے مقصد، اور عقیدے کی حفاظت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صالح لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا منع ہے۔
- عبادت گاہوں میں ایسی تصویریں بنانا سخت مذموم عمل بتایا گیا۔
- نیک لوگوں کی محبت میں شرعی حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
- قیامت کے دن ایسے عمل کرنے والوں کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔
