سنن نسائی حدیث ۷۰۴ - قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت
قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت
سنن نسائی : ۷۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۰۴
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَيُونُسَ ، قَالَا : قال الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَا : لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ ، قال وَهُوَ كَذَلِكَ " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ ، وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آیا تو آپ اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈالتے، اور جب دم گھٹنے لگتا تو چادر اپنے چہرہ سے ہٹا دیتے، اور اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔
سنن نسائی حدیث ۷۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب تھا۔ آپ تکلیف کی حالت میں کبھی چادر چہرے پر ڈالتے اور جب گھٹن محسوس ہوتی تو اسے ہٹا دیتے۔ اسی حالت میں آپ نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ اس روایت کا اصل موضوع قبروں کو مسجد یا سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں بھی امت کو اس خطرے سے خبردار کیا۔ اس حدیث میں توحید کی حفاظت، عبادت کی جگہ کے آداب، اور قبروں کے بارے میں حد سے بڑھنے سے بچنے کا واضح سبق موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قبروں کو سجدہ گاہ بنانا سخت منع کیا گیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں بھی امت کو اہم دینی بات سمجھائی۔
- عبادت صرف اللہ کے لیے اور درست طریقے سے ہونی چاہیے۔
- پچھلی امتوں کی غلطیوں سے بچنے کی تنبیہ کی گئی۔
