سنن نسائی حدیث ۷۰۸ - لہسن پیاز کھا کر مسجد نہ آنا
لہسن پیاز کھا کر مسجد آنے کا حکم
سنن نسائی : ۷۰۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۰۸
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ : الثُّومِ ، ثُمَّ قَالَ : الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ ، فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسَاجِدِنَا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ " .
جابر روایت:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اس درخت میں سے کھائے، پہلے دن آپ نے فرمایا لہسن میں سے، پھر فرمایا: لہسن، پیاز اور گندنا میں سے، تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت و تکلیف محسوس کرتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۷۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن، پیاز اور گندنا کھانے کے بعد مسجد کے قریب آنے سے منع فرمایا۔ وجہ بھی حدیث میں صاف بیان ہوئی کہ فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت محسوس کرتے ہیں۔ اس روایت کا اصل موضوع مسجد کے آداب اور دوسروں کو تکلیف سے بچانا ہے۔ مسجد عبادت، ذکر اور نماز کی جگہ ہے، اس لیے وہاں آنے والا شخص اپنی بو، لباس اور رویے کا خیال رکھے۔ حدیث میں کھانے کو مطلق حرام کہنا مقصود نہیں، بلکہ بدبو کے ساتھ مسجد آنے سے روکا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازیوں اور مسجد کے ماحول کو تکلیف سے بچانا دین میں اہم ادب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لہسن، پیاز یا گندنا کی بدبو کے ساتھ مسجد نہیں آنا چاہیے۔
- مسجد میں دوسروں کو تکلیف پہنچانے والی چیزوں سے بچنا چاہیے۔
- فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت پاتے ہیں جن سے انسان اذیت پاتا ہے۔
- مسجد کے آداب میں صفائی اور پاکیزہ ماحول شامل ہے۔
