سنن نسائی حدیث ۷۰۹ - پیاز لہسن کی بو اور مسجد کا ادب
پیاز لہسن کی بو ختم کر کے مسجد آنا
سنن نسائی : ۷۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۰۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قال : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قال : إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ مَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلُ وَالثُّومُ ، وَلَقَدْ " رَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ ، أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ " ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا .
عمر بن خطاب روایت:
لوگو! تم ان دونوں پودوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث ہی سمجھتا ہوں یعنی اس پیاز اور لہسن سے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان میں سے کسی کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، تو اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان دونوں کو کھائے تو پکا کر ان کی بو کو مار دے۔
سنن نسائی حدیث ۷۰۹ کا خلاصہ
اس روایت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کو پیاز اور لہسن کے بارے میں تنبیہ کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ تم دو پودے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث سمجھتا ہوں، یعنی پیاز اور لہسن۔ پھر انہوں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص سے ان دونوں کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، یہاں تک کہ اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ آخر میں عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو ان کو کھائے، وہ پکا کر ان کی بو ختم کر دے۔ اس حدیث میں مسجد کی پاکیزگی، نمازیوں کا خیال اور بدبو سے بچنے کا واضح سبق ہے۔ کھانے کی اصل بات کے بجائے یہاں مسئلہ بدبو کے ساتھ مسجد میں آنا ہے، کیونکہ یہ لوگوں کے لیے تکلیف کا سبب بنتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیاز اور لہسن کی بدبو کے ساتھ مسجد آنے سے بچنا چاہیے۔
- بدبو محسوس ہونے پر ایسے شخص کو مسجد سے دور کیا جاتا تھا۔
- پکا کر بو ختم کرنے کی نصیحت روایت میں موجود ہے۔
- مسجد میں آنے سے پہلے دوسروں کی راحت کا خیال رکھا جائے۔
