سنن نسائی حدیث ۷۱۰ - اعتکاف کی نیت اور اخلاص

اعتکاف میں اخلاص اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل

سنن نسائیحدیث نمبر ۷۱۰

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قال : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ ، وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ ، فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آلْبِرَّ تُرِدْنَ ؟ " فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ .

عائشہ روایت:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہو جاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چنانچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے (خیمہ لگانے کا) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: ”کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سال) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا (اور اس کے بدلے) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔

سنن نسائی حدیث ۷۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر کی نماز پڑھ کر اس جگہ داخل ہوتے جہاں اعتکاف کرنا ہوتا۔ ایک رمضان کے آخری عشرے میں آپ نے اعتکاف کا ارادہ فرمایا، آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا۔ پھر حفصہ رضی اللہ عنہا اور زینب رضی اللہ عنہا کے لیے بھی خیمے لگ گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا کہ کیا تم اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ پھر آپ نے اس سال رمضان میں اعتکاف نہ کیا اور شوال میں دس دن اعتکاف فرمایا۔ اس روایت میں اعتکاف کی نیت، عبادت میں اخلاص، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیتی حکمت صاف نظر آتی ہے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ اعتکاف صرف ظاہری جگہ لینے کا نام نہیں، اصل چیز نیت اور اللہ کی رضا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے بعد اعتکاف کی جگہ داخل ہوتے تھے۔
  • اعتکاف میں نیت اور اخلاص کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • آپ نے اس سال رمضان کے بجائے شوال میں دس دن اعتکاف کیا۔
  • عبادت میں مقابلہ یا دکھاوے کا پہلو آ جائے تو اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں