سنن نسائی حدیث ۷۱۱ - مسجد میں مریض کی عیادت
مسجد میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی عیادت
سنن نسائی : ۷۱۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۱۱
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ رَمْيَةً فِي الْأَكْحَلِ " فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ " .
عائشہ روایت:
غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ میں تیر مارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
سنن نسائی حدیث ۷۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا غزوہ خندق کے دن کا واقعہ بیان کرتی ہیں۔ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو قریش کے ایک شخص نے ہاتھ کی رگ میں تیر مارا، جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔ اس روایت کا اصل پیغام مریض کی خبرگیری، صحابہ سے محبت، اور ضرورت کے وقت مسجد میں مناسب انتظام کا بیان ہے۔ حدیث میں سعد رضی اللہ عنہ کے زخم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے عیادت کرنے کا مقصد صاف ذکر ہوا ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بیمار یا زخمی مسلمان کی دیکھ بھال اہم ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ساتھیوں کی حالت کا خیال رکھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مریض اور زخمی کی عیادت کرنا اہم عمل ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی خبرگیری فرماتے تھے۔
- ضرورت کے تحت مسجد میں خیمہ لگایا گیا۔
- قریب رہ کر عیادت کرنا محبت اور خیال کی علامت ہے۔
