سنن نسائی حدیث ۷۱۳ - ثمامہ بن اثال کو مسجد میں باندھنا

ثمامہ بن اثال اور مسجد کے ستون کا واقعہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۷۱۳

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ : ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ ، فَرُبِطَ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ " مُخْتَصَرٌ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو قبیلہ نجد کی جانب بھیجا، تو وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو (گرفتار کر کے) لائے، جو اہل یمامہ کا سردار تھا، اسے مسجد کے کھمبے سے باندھ دیا گیا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔

سنن نسائی حدیث ۷۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار نجد کی طرف بھیجے۔ وہ بنی حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو لے آئے، جو اہل یمامہ کا سردار تھا۔ اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ روایت میں خود بتایا گیا ہے کہ یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے، اس لیے یہاں صرف اتنی بات بیان ہوئی کہ ثمامہ کو لایا گیا اور مسجد کے ستون سے باندھا گیا۔ اس حدیث کا موضوع مسجد میں قیدی کو باندھنے کا واقعہ ہے۔ اس مختصر متن سے زیادہ تفصیل اخذ نہیں کی جا سکتی، لیکن اتنا واضح ہے کہ یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پیش آیا اور مسجد میں ایک خاص ضرورت کے تحت قیدی کو رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ثمامہ بن اثال کو مسجد کے ستون سے باندھا گیا۔
  • روایت میں بتایا گیا کہ وہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔
  • یہ حدیث ایک لمبی روایت کا مختصر حصہ ہے۔
  • متن سے صرف اسی واقعے کی حد تک بات سمجھنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں