سنن نسائی حدیث ۷۱۵ - جمعہ سے پہلے حلقہ اور خرید و فروخت
جمعہ سے پہلے حلقہ اور مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت
سنن نسائی : ۷۱۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۱۵
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، وَعَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ " .
عبداللہ بن عمرو روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے، اور مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۷۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا، اور مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے بھی روکا۔ اس روایت کا موضوع مسجد کے آداب، جمعہ کی تیاری اور مسجد کو بازار جیسے معاملات سے بچانا ہے۔ جمعہ کے دن لوگ نماز کے لیے مسجد آتے ہیں، اس لیے نماز سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنا صفوں، توجہ یا جگہ کے نظم کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی طرح مسجد میں خرید و فروخت کرنا مسجد کے اصل مقصد سے ہٹ کر معاملہ ہے۔ حدیث سادہ الفاظ میں بتاتی ہے کہ مسجد عبادت، نماز اور ذکر کی جگہ ہے، اسے دنیاوی لین دین کی جگہ نہیں بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کی نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع کیا گیا۔
- مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے روکا گیا۔
- مسجد کو عبادت اور نماز کے مقصد کے لیے صاف رکھا جائے۔
- جمعہ کے دن مسجد کے نظم اور صفوں کا خیال رکھا جائے۔
