سنن نسائی حدیث ۷۲۶ - قبلہ کی طرف بلغم صاف کرنے کا حکم

مسجد میں بلغم اور قبلہ کی صفائی کا نبوی ادب

سنن نسائیحدیث نمبر ۷۲۶

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ وَنَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : " يَبْصُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .

ابو سعید خدری روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ (والی دیوار پر) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: ”(جنہیں ضرورت ہو) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے“۔

سنن نسائی حدیث ۷۲۶ کا خلاصہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں مسجد کی صفائی اور نماز کے ادب دونوں جمع ہیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مسجد کے قبلہ کی طرف بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ کر صاف کیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع فرمایا، اور ضرورت کی صورت میں بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے کا طریقہ بتایا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں بلغم یا تھوک چھوڑ دینا درست نہیں۔ اگر ایسی چیز نظر آئے تو اسے صاف کرنا اچھا عمل ہے۔ سامنے کی سمت قبلہ اور نماز کا رخ ہے، جبکہ دائیں طرف کا بھی ادب ہے۔ اس لیے نماز پڑھنے والا اپنی جسمانی ضرورت میں بھی دین کے بتائے ہوئے آداب کا خیال رکھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد کی قبلہ والی سمت کو صاف رکھنا چاہیے۔
  • نماز میں سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • ضرورت ہو تو حدیث میں بتایا گیا طریقہ اختیار کیا جائے، بے احتیاطی نہ کی جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں