سنن نسائی حدیث ۷۲۷ - نماز میں تھوکنے کا درست طریقہ
نماز میں تھوکنے کا ادب: سامنے اور دائیں طرف نہیں
سنن نسائی : ۷۲۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۲۷
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قال : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي ، فَلَا تَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ ، وَابْصُقْ خَلْفَكَ أَوْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا ، وَإِلَّا فَهَكَذَا : وَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ وَدَلَكَهُ " .
طارق بن عبداللہ محاربی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے داہنے ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنے پیچھے تھوکو، یا اپنے بائیں تھوکو، بشرطیکہ بائیں طرف کوئی نہ ہو، ورنہ اس طرح کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیر کے نیچے تھوک کر اسے مل دیا۔
سنن نسائی حدیث ۷۲۷ کا خلاصہ
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کی روایت نماز کے دوران پیش آنے والی ایک عملی ضرورت کا ادب سکھاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں طرف نہ تھوکو۔ اگر بائیں طرف جگہ خالی ہو تو بائیں طرف، یا پیچھے تھوکو۔ اگر ایسا بھی مناسب نہ ہو تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے مل کر دکھایا۔ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نماز میں بھی صفائی، قبلہ کا ادب اور دوسرے لوگوں کا خیال باقی رہے۔ یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ اسلام صرف عبادت کا حکم نہیں دیتا، بلکہ عبادت کے دوران جسمانی ضرورت کے لیے بھی صاف اور باادب راستہ بتاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں سامنے یا دائیں طرف تھوکنا درست نہیں۔
- بائیں طرف جگہ خالی ہو تو ضرورت کے وقت وہ سمت اختیار کی جا سکتی ہے۔
- اگر زمین پر تھوکنا پڑے تو اسے چھوڑنا نہیں، بلکہ مل کر صاف کرنا چاہیے۔
