سنن نسائی حدیث ۷۳۷ - زمین کو مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنایا گیا

پوری زمین مسجد ہے: نماز اور پاکی کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۷۳۷

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قال : حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، أَيْنَمَا أَدْرَكَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةَ صَلَّى " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پوری روئے زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، میری امت کا کوئی بھی آدمی جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے“۔

سنن نسائی حدیث ۷۳۷ کا خلاصہ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں امت کے لیے ایک بڑی آسانی بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ زمین میرے لیے مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، پس میری امت کا کوئی شخص جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے لیے صرف خاص عمارت ہی شرط نہیں، بلکہ پاک جگہ مل جائے تو نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح زمین کو پاکی کا ذریعہ بھی کہا گیا، جس سے تیمم کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں اصل لفظ زمین کے مسجد اور طہور ہونے کا ہے۔ یہ تعلیم سفر، کام، بازار یا کسی بھی جگہ نماز کے وقت کو ضائع نہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پاک زمین پر نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
  • نماز کا وقت آ جائے تو مناسب جگہ تلاش کر کے نماز پڑھنی چاہیے۔
  • امت کے لیے زمین کو سجدہ گاہ اور پاکی کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں