سنن نسائی حدیث ۷۶۳ - محبوب عمل وہ ہے جو جاری رہے

اللہ کے نزدیک محبوب عمل: کم مگر مسلسل

سنن نسائیحدیث نمبر ۷۶۳

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرَةٌ يَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا ، فَفَطَنَ لَهُ النَّاسُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمُ الْحَصِيرَةُ ، فَقَالَ : " اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا ، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ " ، ثُمَّ تَرَكَ مُصَلَّاهُ ذَلِكَ فَمَا عَادَ لَهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے آپ دن میں بچھایا کرتے تھے، اور رات میں اس کو حجرہ نما بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے، لوگوں کو اس کا علم ہوا تو آپ کے ساتھ وہ بھی نماز پڑھنے لگے، آپ کے اور ان کے درمیان وہی چٹائی حائل ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اتنا ہی) عمل کرو جتنا کہ تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا البتہ تم (عمل سے) تھک جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مداومت ہو گرچہ وہ کم ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ چھوڑ دی، اور وہاں دوبارہ نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ جب کوئی کام کرتے تو اسے جاری رکھتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۷۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی۔ آپ دن میں اسے بچھاتے اور رات میں اسے حجرہ نما بنا کر اس میں نماز پڑھتے۔ لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتنا ہی عمل کرو جتنا تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا، البتہ تم عمل سے تھک جاؤ گے۔ پھر آپ نے بتایا کہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مداومت ہو، اگرچہ وہ کم ہو۔ یہ حدیث نفل عبادت، مستقل مزاجی اور اپنی طاقت کے مطابق دین پر چلنے کا بہت آسان سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیک عمل اپنی طاقت کے مطابق کرنا چاہیے۔
  • کم عمل اگر مسلسل ہو تو اللہ کے نزدیک محبوب ہے۔
  • عبادت میں خود پر اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے کہ آدمی تھک جائے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم جب کوئی عمل کرتے تو اسے جاری رکھتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں