سنن نسائی حدیث ۷۷۲ - نقش دار چادر نے نماز میں مشغول کیا

نماز میں خشوع اور سادہ چادر

سنن نسائیحدیث نمبر ۷۷۲

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ ، ثُمَّ قَالَ : " شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اور اس کے عوض کوئی سادی چادر لے آؤ“۔

سنن نسائی حدیث ۷۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس چادر کے بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور اس کے بدلے سادی چادر لے آؤ۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز میں خشوع، نماز میں توجہ، اور سادہ لباس ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سامنے یا لباس پر موجود نقش بھی توجہ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا عملی حل بتایا کہ نقش دار چادر کی جگہ سادی چادر لے آؤ۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نقش دار چادر نماز میں توجہ کو مشغول کر سکتی ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے سادی چادر لانے کا حکم دیا۔
  • نماز میں خشوع کے لیے سادگی بہتر رہتی ہے۔
  • حدیث میں توجہ بٹنے پر عملی تبدیلی کی مثال موجود ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں