سنن نسائی حدیث ۸۲۳ - امام کے دائیں جانب کھڑے ہونا
امام کے دائیں جانب نماز کی فضیلت
سنن نسائی : ۸۲۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۲۳
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قال : " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ " .
براء روایت:
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو میں آپ کے دائیں کھڑا ہونے کو پسند کرتا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۸۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں براء رضی اللہ عنہ اپنا ذوق بیان کرتے ہیں کہ جب صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو وہ آپ کے دائیں جانب کھڑے ہونے کو پسند کرتے تھے۔ حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک صاف بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اور دائیں طرف کھڑے ہونے کی خواہش صحابہ کے دل میں موجود تھی۔ امام کے دائیں جانب نماز سے مراد یہاں خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز کا واقعہ ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نماز میں صرف جگہ نہیں دیکھتے تھے، بلکہ ادب، قرب اور اتباع کا احساس بھی رکھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے قریب رہنے کو پسند کرتے تھے۔
- نماز میں جگہ اختیار کرتے وقت ادب اور ترتیب کا خیال رکھا جاتا تھا۔
- امام کے دائیں جانب کھڑے ہونے کی محبت اس روایت میں بیان ہوئی ہے۔
- جماعت کی نماز میں امام کے ساتھ تعلق اور اتباع کا احساس اہم ہے۔
