سنن نسائی حدیث ۸۲۴ - امام نماز ہلکی پڑھائے
امام نماز ہلکی کیوں پڑھائے؟
سنن نسائی : ۸۲۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۲۴
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں، اور جب کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے“۔
سنن نسائی حدیث ۸۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے لیے بہت صاف ہدایت دی ہے کہ جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو نماز ہلکی پڑھائے۔ وجہ بھی بیان فرما دی کہ جماعت میں بیمار، کمزور اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نماز جلدی جلدی اور ادھوری پڑھی جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ امام مقتدیوں کی حالت کا خیال رکھے۔ اگر کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو وہ جتنی چاہے لمبی نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس حدیث میں امام نماز ہلکی پڑھائے، جماعت کی نماز، کمزور نمازی اور آسان امامت جیسے اہم موضوعات ایک ساتھ آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کو مقتدیوں کی جسمانی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- جماعت کی نماز میں غیر ضروری لمبائی سے بچنا چاہیے۔
- تنہا نماز میں آدمی اپنی طاقت کے مطابق لمبی قرأت کر سکتا ہے۔
- آسانی پیدا کرنا امامت کے آداب میں شامل ہے۔
