سنن نسائی حدیث ۸۲۶ - بچے کے رونے پر نماز ہلکی کرنا
بچے کے رونے پر نماز ہلکی کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۸۲۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۲۶
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأُوجِزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ " .
ابوقتادہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور بچوں کا رونا سنتا ہوں تو اپنی نماز ہلکی کر دیتا ہوں، اس ڈر سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں“۔
سنن نسائی حدیث ۸۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی اور لوگوں کی حالت کا خیال صاف نظر آتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز ہلکی کر دیتا ہوں، اس خیال سے کہ اس کی ماں کو مشقت نہ ہو۔ یہاں اصل بات بچے کا رونا اور ماں کی تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے، پھر بھی مقتدیوں کے حالات سے بے خبر نہیں رہتے تھے۔ اس حدیث میں بچے کے رونے پر نماز ہلکی کرنا، ماں کی آسانی، امام کی نرمی اور جماعت کی نماز کا ادب بہت سادہ انداز میں بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کو جماعت میں موجود لوگوں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- ماں کی تکلیف کو محسوس کرنا نبوی رحمت کا حصہ ہے۔
- نماز میں تخفیف کبھی لوگوں کی آسانی کے لیے کی جا سکتی ہے۔
- دین میں نرمی اور خیر خواہی کا پہلو نمایاں ہے۔
