صحیح بخاری حدیث ۷۰۷ - نماز میں آسانی اور ماں کا خیال
نماز میں آسانی: بچے کے رونے پر امام کا نماز ہلکی کرنا
صحیح بخاری : ۷۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۷
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا ، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ " ، تَابَعَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَبَقِيَّةُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ .
ابوقتادہ حارث بن ربعی روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز دیر تک پڑھنے کے ارادہ سے کھڑا ہوتا ہوں۔ لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں، کیونکہ اس کی ماں کو (جو نماز میں شریک ہو گی) تکلیف میں ڈالنا برا سمجھتا ہوں۔ ولید بن مسلم کے ساتھ اس روایت کی متابعت بشر بن بکر، بقیہ بن ولید اور ابن مبارک نے اوزاعی کے واسطہ سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں آسانی اور امام کا نمازیوں کا خیال رکھنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نماز کو لمبا کرنے کے ارادے سے کھڑے ہوتے، لیکن جب بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز کو ہلکا کر دیتے۔ وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس کی ماں کو تکلیف میں ڈالنا پسند نہیں فرماتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی نماز میں امام کو صرف اپنی رغبت نہیں دیکھنی چاہیے، بلکہ پیچھے نماز پڑھنے والوں کی حالت بھی دیکھنی چاہیے۔ بچے کے رونے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت میں سنجیدگی کے ساتھ نرمی بھی ہے۔ نماز ہلکی کرنے کی حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جہاں کسی نمازی، خاص طور پر ماں، کو مشقت ہو رہی ہو وہاں امام مناسب آسانی اختیار کر سکتا ہے۔ یہاں اصل بات نماز کمزور کرنا نہیں، بلکہ نماز کو ایسی حالت میں پڑھانا ہے جس میں لوگوں پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کو جماعت میں شامل لوگوں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- بچے کے رونے پر ماں کی تکلیف کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- نماز میں لمبا پڑھنا اکیلے آدمی کے لیے آسان ہو سکتا ہے، مگر جماعت میں نرمی بہتر ہو سکتی ہے۔
- دین میں عبادت کے ساتھ لوگوں کے حال کا لحاظ بھی سکھایا گیا ہے۔
