صحیح بخاری حدیث ۷۰۸ - نماز میں نرمی اور تکمیل
نماز میں نرمی: مکمل مگر آسان جماعت کی نماز
صحیح بخاری : ۷۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۸
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی لیکن کامل نماز میں نے کسی امام کے پیچھے کبھی نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی آواز سن لیتے تو اس خیال سے کہ اس کی ماں کہیں پریشانی میں نہ مبتلا ہو جائے نماز مختصر کر دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں نرمی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی مگر مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی نماز میں توازن ضروری ہے۔ نماز اتنی مختصر نہ ہو کہ اس کی تکمیل متاثر ہو، اور اتنی لمبی بھی نہ ہو کہ پیچھے کھڑے لوگوں پر مشقت بن جائے۔ حدیث میں ایک خاص بات یہ بھی آئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر کر دیتے، اس اندیشے سے کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو۔ اس سے نماز کی تکمیل کے ساتھ لوگوں کی حالت کا خیال رکھنے، امام کی ذمہ داری، اور عبادت میں آسانی کا واضح سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کو جماعت کی نماز میں لوگوں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نماز ہلکی ہو سکتی ہے، مگر اس کی تکمیل باقی رہنی چاہیے۔
- بچے کے رونے پر ماں کی پریشانی کا خیال رکھنا رحمت اور نرمی کی علامت ہے۔
- عبادت میں ایسا انداز بہتر ہے جس میں سنت کے مطابق آسانی اور مکمل ادائیگی دونوں جمع ہوں۔
