سنن نسائی حدیث ۸۳۸ - جماعت کی نماز کے ستائیس درجے

جماعت کی نماز ستائیس درجے افضل

سنن نسائیحدیث نمبر ۸۳۸

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۸۳۸ کا خلاصہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں جماعت کی نماز کی فضیلت بہت صاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان نماز کو صرف انفرادی عمل نہ سمجھے، بلکہ جہاں ممکن ہو جماعت کے ساتھ ادا کرے۔ جماعت کی نماز میں بندہ امام کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے، مسلمانوں کے ساتھ عبادت کرتا ہے اور نماز کا اجتماعی نظم قائم ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ستائیس درجے کا ذکر آیا ہے، اس لیے اسی لفظ کو بیان کرنا درست ہے، اس میں اپنی طرف سے کمی بیشی نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جماعت کی نماز کی فضیلت تنہا نماز سے زیادہ ہے۔
  • حدیث میں ستائیس درجے کا ذکر آیا ہے۔
  • مسلمان کو جماعت کے ساتھ نماز کی رغبت رکھنی چاہیے۔
  • نماز کا اجتماعی نظم دین میں پسندیدہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں