سنن نسائی حدیث ۸۳۷ - صلاۃ الخوف کا طریقہ
صلاۃ الخوف میں دو جماعتوں کی نماز
سنن نسائی : ۸۳۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۳۷
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَبِالَّذِينَ جَاءُوا رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ " .
ابوبکرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی، (پھر وہ چلے گئے) اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں۔
سنن نسائی حدیث ۸۳۷ کا خلاصہ
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں صلاۃ الخوف کا ایک طریقہ بیان ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ چلے گئے اور ان کی جگہ آنے والوں کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔ حدیث کا بیان مختصر ہے، اس لیے اسی حد تک بات رکھی جاتی ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خوف کی حالت میں بھی نماز ترک نہیں کی گئی، بلکہ جماعتوں کی ترتیب کے ساتھ ادا کی گئی۔ صلاۃ الخوف کا مقصد نماز اور حفاظت دونوں کا خیال رکھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوف کی حالت میں بھی نماز کا اہتمام کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے دو الگ جماعتوں کو نماز پڑھائی۔
- ہر جماعت نے دو دو رکعتیں ادا کیں۔
- حالات کے مطابق نماز کی ترتیب مختلف ہو سکتی ہے۔
