سنن نسائی حدیث ۸۴۰ - باجماعت نماز کے پچیس درجے

نماز باجماعت کے پچیس درجے

سنن نسائیحدیث نمبر ۸۴۰

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ ، قال : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .

عائشہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۸۴۰ کا خلاصہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجے بڑھتی ہے۔ اس حدیث میں جماعت کی نماز کی فضیلت ایک واضح عدد کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس سے مسلمان کے دل میں باجماعت نماز کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ جماعت میں نماز پڑھنے سے آدمی صف میں شامل ہوتا ہے، امام کی پیروی کرتا ہے اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ حدیث کا پیغام سادہ ہے کہ تنہا نماز کے مقابلے میں جماعت کی نماز کا مقام زیادہ ہے، اس لیے جہاں سہولت ہو وہاں جماعت کو ترجیح دینی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جماعت کی نماز پچیس درجے بڑھ کر بیان ہوئی ہے۔
  • باجماعت نماز کی طرف رغبت دلائی گئی ہے۔
  • نماز میں اجتماعی نظم اور امام کی پیروی شامل ہے۔
  • مسلمان کو جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں