سنن نسائی حدیث ۸۴۱ - امامت کا حقدار کون ہے
امامت کا زیادہ حقدار قرآن جاننے والا
سنن نسائی : ۸۴۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۴۱
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۸۴۱ کا خلاصہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کی نماز کے لیے ایک صاف اصول بیان فرمایا۔ جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے۔ پھر فرمایا کہ امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔ اس حدیث میں امامت کو محض عمر، عادت یا ذاتی پسند پر نہیں چھوڑا گیا، بلکہ قرآن سے تعلق کو معیار بتایا گیا۔ یہاں الفاظ کے مطابق بات یہی ہے کہ تین افراد ہوں تو جماعت بنائی جائے اور ان میں قرآن زیادہ جاننے والا آگے ہو۔ یہ نماز کی ترتیب، علم قرآن کی قدر اور امامت کے ادب کو آسان انداز میں سمجھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین آدمی ہوں تو ایک کو امام بنایا جائے۔
- امامت میں قرآن زیادہ جاننے والے کو ترجیح دی گئی ہے۔
- نماز کی جماعت کا نظم واضح ہونا چاہیے۔
- قرآن سے تعلق امامت کے لیے اہم معیار ہے۔
