سنن نسائی حدیث ۸۵۷ - کامل وضو اور فرض نماز کا اجر
کامل وضو، فرض نماز اور گناہوں کی بخشش
سنن نسائی : ۸۵۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۵۷
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قال : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ " .
عثمان بن عفان روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے نماز کے لیے وضو کیا، اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ، یا مسجد میں (تنہا) نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۸۵۷ کا خلاصہ
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔ یہ حدیث "کامل وضو"، "فرض نماز" اور "مسجد میں نماز" کے اجر کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس میں پہلے وضو کی درستگی ہے، پھر فرض نماز کی طرف چلنا ہے، پھر جماعت یا مسجد میں نماز ہے۔ حدیث کا انداز امید دلانے والا ہے، مگر اس میں عمل کی ترتیب بھی واضح ہے۔ نمازی کے لیے سبق یہ ہے کہ وضو کو جلدی جلدی ختم کرنے کی چیز نہ سمجھے، بلکہ اسے نماز کی تیاری جانے۔ پھر فرض نماز کے لیے چلنا اور نماز ادا کرنا بخشش کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے لیے کامل وضو کرنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
- فرض نماز کے لیے چلنا عبادت کی تیاری کا حصہ ہے۔
- جماعت یا مسجد میں نماز گناہوں کی بخشش کا سبب بیان ہوئی ہے۔
- وضو اور نماز دونوں میں سنجیدگی مطلوب ہے۔
