صحیح مسلم حدیث ۲۳۲ - نعمت کو ستاروں کی طرف منسوب نہ کرنا

اللہ کی نعمت کا شکر اور ستاروں کی نسبت سے بچنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۲

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، ومحمد بن سلمة المرادي ، قَالَ الْمُرَادِيُّ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، وَقَالَ الآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالَ : " مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ ، إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ ، يَقُولُونَ الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے جو فرمایا تمہارے رب نے، فرمایا اس نے، میں نے کوئی نعمت نہیں دی اپنے بندوں کو مگر ایک فرقے نے ان میں سے صبح کو اس کا انکار کیا اور کہنے لگے: تارے تارے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا کہ میں اپنے بندوں کو کوئی نعمت دیتا ہوں تو ان میں سے ایک فرقہ صبح کو اس کا انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے: تارے، تارے۔ یہاں اصل بات نعمت کی نسبت ہے۔ جب نعمت اللہ کی طرف سے ہے تو اسے ستاروں کے نام پر ڈالنا شکر کے خلاف ہے۔ نعمت کا شکر حدیث کا یہ مضمون بہت سادہ ہے: زبان سے وہ بات کہی جائے جو ایمان اور شکر کے مطابق ہو۔ متن میں بارش یا نعمت کو ستاروں کے سبب ماننے والوں پر سخت تنبیہ ہے۔ اس لیے مسلمان کو ہر نعمت پر اللہ کا فضل یاد کرنا چاہیے، نہ کہ اسے ایسی نسبت دے جو حدیث میں انکار کے طور پر بیان ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر نعمت کو اللہ کی طرف سے سمجھنا شکر کا طریقہ ہے۔
  • نعمت کو ستاروں سے جوڑنا متن میں انکار کے طور پر آیا ہے۔
  • زبان کے الفاظ عقیدے اور شکر کو ظاہر کرتے ہیں۔
  • اللہ کی نعمت ملنے پر شکر والا انداز اختیار کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں