صحیح مسلم حدیث ۲۳۱ - بارش اللہ کے فضل اور رحمت سے

بارش اللہ کے فضل سے: شکر اور ایمان کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۱

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ ، كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : قَالَ : " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي ، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي ، مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " .

زید بن خالد جہنی روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی صبح کی ہمیں حدیبیہ میں (جو ایک مقام کا نام ہے قریب مکہ کے) اور رات کو بارش ہو چکی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا: ”تم جانتے ہو تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟“انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بعض کی صبح ایمان پر ہوئی اور بعض کی کفر پر، تو جس نے کہا: پانی برسا اللہ کے فضل اور رحمت سے وہ ایمان لایا مجھ پر اور انکاری ہوا ستاروں سے اور جس نے کہا: پانی برسا ستاروں کی گردش سے وہ کافر ہوا میرے ساتھ اور ایمان لایا تاروں پر۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں حدیبیہ میں فجر کی نماز کے بعد کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رات کو بارش ہوئی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ پھر بتایا کہ جس نے کہا: پانی اللہ کے فضل اور رحمت سے برسا، وہ اللہ پر ایمان لایا اور ستاروں کا انکار کیا۔ اور جس نے کہا کہ پانی فلاں ستارے کی وجہ سے برسا، وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہوا۔ بارش اللہ کے فضل سے حدیث کا اصل سبق شکر نعمت ہے۔ نعمت کو اللہ کی طرف منسوب کرنا ایمان کا انداز ہے، جبکہ ستاروں کی گردش کو اصل سبب سمجھنا متن کے مطابق سخت غلطی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نعمت کو اللہ کے فضل اور رحمت سے ماننا چاہیے۔
  • بارش کو ستاروں کی گردش کا اصل نتیجہ کہنا حدیث میں سخت غلطی بتایا گیا ہے۔
  • نماز کے بعد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عقیدہ درست کرنے کی تعلیم دی۔
  • شکر کے الفاظ انسان کے ایمان والے رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں