صحیح مسلم حدیث ۲۳۰ - بھاگے ہوئے غلام کی نماز قبول نہ ہونا
غلام کے بھاگنے پر نماز قبول نہ ہونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ " .
جریر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہ ہو گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہ ہو گی۔ یہ روایت اپنے متن کے مطابق غلام اور مالک کے تعلق سے متعلق ہے۔ اس کا اصل سبق یہ ہے کہ حق تلفی اور ذمہ داری سے بھاگنا عبادت کے معاملے کو بھی متاثر کرنے والی سنگین بات ہے۔ غلام کی نماز قبول نہیں حدیث کے الفاظ بہت سخت ہیں، اس لیے اسے معمولی نافرمانی نہیں سمجھا گیا۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ نماز صرف ظاہری عمل نہیں، بلکہ انسان کے رویے، حق ادا کرنے اور ذمہ داری سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ روایت میں مزید تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا بہتر ہے کہ بھاگنے والے غلام کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- متن کے مطابق غلام کا بھاگنا سنگین نافرمانی ہے۔
- حق تلفی عبادت کے قبول ہونے کے مسئلے تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔
- نماز کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی ضروری ہے۔
- حدیث کو اسی بیان تک محدود رکھنا چاہیے جو متن میں آیا ہے۔
