صحیح مسلم حدیث ۲۲۹ - بھاگے ہوئے غلام سے ذمہ اتر گیا
غلام کے بھاگ جانے پر ذمہ اترنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَبْدٍ أَبَقَ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
جریر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام بھاگ جائے اس سے ذمہ اتر گیا۔“ (یعنی اسلام کی پناہ جاتی رہی یا پہلے جو اس کی رعایت ہوتی تھی وہ نہ ہو گی اور مالک کو اختیار دیا جائے گا۔ اس کے ضرب اور حبس کا
صحیح مسلم حدیث ۲۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غلام بھاگ جائے اس سے ذمہ اتر گیا۔ ترجمہ میں اس کی وضاحت اسلام کی پناہ یا پہلے والی رعایت کے اتر جانے کے طور پر آئی ہے۔ اس روایت کا موضوع ذمہ داری اور حق ادا کرنا ہے۔ متن اپنے دور کے غلام اور مالک کے معاملے سے متعلق ہے، اس لیے اسے اسی بیان تک محدود رکھنا چاہیے۔ غلام کے بھاگنے کی حدیث بتاتی ہے کہ جس شخص پر کوئی حق لازم ہو، اس کا فرار یا حق سے بچنا معمولی بات نہیں۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ ذمہ داریاں ادا کی جائیں اور ایسا عمل نہ کیا جائے جس سے حفاظت یا رعایت کا تعلق متاثر ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حق سے فرار کو حدیث میں سخت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
- متن کے مطابق بھاگنے سے ذمہ یا رعایت کا تعلق متاثر ہوتا ہے۔
- ذمہ داری ادا کرنا دینی اخلاق کا حصہ ہے۔
- روایت کو اسی غلام اور مالک کے بیان تک محدود سمجھنا چاہیے۔
